ثمن مجہول ہونے پر بیع کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #29Urdu

Question

آج کل ایک طریقہ جاری ہے کہ اگر کسی کے پاس زمین ہے مگر اس کے پاس پیسے نہیں ہے کہ اس پر تعمیر کر سکے، حکومت کا ایک ادارہ اس جیسے لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ کرتا ہے کہ اس زمین پر مثلاً ایک بلڈنگ بنا دی جس میں چند دکانیں ہیں، ان میں سے ایک دکان مالک زمین کو بطورِ ثمن دے دیتا ہے اور باقی دکانیں اپنے قبضہ میں رکھ لیتا ہے، کیا یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ یہ معاملہ صحیح اور درست نہیں ہے، اس لیے کہ ثمن یعنی دکان ابھی معدوم ہے اور اس میں جہالتِ فاحشہ ہے جو مفضیہ الی المنازعہ ہے، کیوں کہ دکان کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد مالک زمین کو پسند آئے گی یا نہیں، پورے اہتمام سے تعمیر ہو گی یا نہیں وغیرہ وغیرہ یہ سب باتیں جھگڑا پیدا کرنے والی ہیں، اگر چہ نقشہ کے ذریعہ معلوم ہو سکتا ہے لیکن پوری تفصیل کا معلوم ہونا مشکل ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں شرح مجلہ میں ہے:

يلزم أن يكون الثمن معلوماً، أي بالإشارة إليه أو ببيان مقداره ووصفه لأن التسلم والتسليم واجب بالعقد وجهالة ما ذكر مفضية للمنازعة فيمتنع التسلم والتسليم وكل جهالة هذه صفتها تمنع الجواز. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، الباب الثالث، ۲/۱۵۸. وكذا في شرح المجلة لسليم رستم باز، ۱/۱۲۲).
وفي حاشية الطحطاوي: وكذا لا يصح البيع إذا كان الثمن مجهولاً كما إذا باع شيئاً بقيمته. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۳/۱۳، كوئته).
وفي فتاوى الشامي: وخرج أيضاً ما لو كان الثمن مجهولاً كالبيع بقيمته أو برأس ماله أو بما اشتراه أو بمثل ما اشتراه فلان، فإن علم المشتري بالقدر في المجلس جاز ومنه أيضاً ما لو باعه بمثل ما يبيع الناس إلا أن يكون شيئاً لا يتفاوت، نهر. قوله ووصف ثمن لأنه إذا كان مجهول الوصف تتحقق المنازعة فالمشتري يريد دفع الأدون والبائع يطلب الأرفع فلا يحصل مقصود شرعية العقد، نهر. (فتاوى الشامي: ٤/۵۲۹، سعيد).

ہاں اس معاملہ کے جواز کی آسان صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ثمن مؤجل کر دے اور ثمن کے لیے پیسے مقرر کر لے، پھر جب دکانیں تیار ہو جائیں تو پیسے کے بدلے ایک دکان بھی دے سکتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.