بیع مطلق میں تاجیل ثمن کا حکمـ:

2 min readFatwa Vol 5 #68Urdu

Question

اگر کسی شخص نے ایک کتاب ۵۰ رینڈ میں فروخت کی اور مشتری نے کہا ثمن بعد میں دے دوں گا تو یہ جائز ہے یا نہیں؟
(۲) اگر بائع نے کہا کہ مبیع اس شرط پر فروخت کرتا ہوں کہ قیمت جنوری یا فروری میں دے دیں، تو کیا حکم ہے؟

Answer

اگر بیع کی تکمیل کے بعد یہ الفاظ کہے تو کوئی حرج نہیں بیع مطلق ہوئی اور بعد میں مدت میں جہالت ہو تو یہ مضر نہیں اور اگر ادھار کی شرط پر خریدی اور وقت مجہول ہو تو ناجائز ہے ۔ حاصل یہ ہے کہ بیع مؤجل میں اجل کی تعیین ضروری ہے اور بیع مطلق میں اجل کی جہالت مضر نہیں ۔
ہدایہ میں ہے:

بخلاف ما إذا باع مطلقاً ثم أجل الثمن إلى هذه الأوقات أي إلى الحصاد وغيره حيث جاز لأن هذا تأجيل في الدين وهذه الجهالة فيه متحملة. (الهداية: ۳/٦۱).

شرح مجلہ میں ہےـ:

وفي جامع الفصولين: الرواية محفوظة أنه لو باع مطلقاً ثم أجل الثمن إلى حصاد ودياس لا يفسد ويصح الأجل. ووجهوه بأن التأخير بعد البيع تبرع فيقبل التأجيل إلى الوقت المجهول. (شرح المجلة للأتاسي، المادة: ۲٤۸، ۲/۱٦۸، الفصل الثاني. وكذا في الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۵۳۲، مطلب في التأجيل إلى اجل مجهول، سعيد. و۵/۸۲، باب البيع الفاسد، سعيد).

(۲) دوسری صورت درست نہیں، ہاں ایک تاریخ متعین کر لے اور بعد میں بائع سے مزید مہلت مانگ لے تو یہ درست ہے ۔
شرح مجلہ میں ہے:

يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط، لأن جهالته تفضي إلى النزاع، فالبائع يطالب في مدة قريبة، والمشتري يأباها، فيفسد البيع، بحر. (شرح المجلة للأتاسي، المادة: ۲٤٦، ۲/۱٦۷).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.