ایک صاع گیہوں قرض لینے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 5 #224Urdu

Question

اگر کسی نے ایک صاع گیہوں کو ایک صاع گیہوں کے عوض ایک ماہ تک فروخت کیا تو یہ ناجائز ہے، لیکن اگر ایک صاع گیہوں قرض دیا کہ ایک ماہ تک واپسی ہو گی تو یہ جائز ہے اور معمول بہ ہے، حالانکہ قاعدہ "
الاعتبار للمعاني"
کے تحت دونوں کا حاصل اور خلاصہ ایک ہے، فقہاء کہتے ہیں، کفالہ بشرط براء ۃ الدین حوالہ ہے اور حوالہ بشرط اعطاء المدیون کفالہ ہے، کیوں کہ معانی کا اعتبار ہے، جب معانی کا اعتبار ہے تو قرض کیوں جائز ہے؟

Answer

قانون کا تقاضہ یہ ہے کہ یہ قرض بھی ناجائز ہو لیکن چونکہ رسول اللہ ﷺ قرض لیا کرتے تھے اور اس حالت میں وفات ہوئی تھی کہ یہودی سے قرضہ لیا تھا ۔ اس لیے استحساناً بالحدیث جائز ہے، جیسے سلم بیع المعدوم سے مستثنی ہے، نیز قرض میں ضرورت بھی ہے، لہذا قرض لینا دینا جائز ہے ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: توفي رسول الله ﷺ ودرعه مرهونة عند يهودي بثلاثين صاعاً من شعير. (رواه البخاري: ۲/٦٤۱، فيصل).

دوسری روایت میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "من أخذ أموال الناس يريد أداء ها أدي الله عنه (أي يسر عليه أداء دينه) ومن أخذ يريد إتلافها أتلفه الله. (رواه البخاري: ۱/۳۲۱، باب من أخذ أموال الناس).

حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جس نے کسی سے قرض لیا ادائیگی کے ارادہ سے، اللہ تعالی اس کے لیے قرض کی ادائیگی کو آسان بنا دیتے ہیں اور جس نے قرض لیا دبا لینے کی نیت سے اللہ تعالی اس کو تلف فرماتے ہیں یعنی اس کے لیے آئندہ آسانی کا معاملہ نہیں فرماتے بلکہ اس کو مزید تنگی میں مبتلا فرما دیتے ہیں ۔
بدائع الصنائع میں ہے:

القرض يسلك به مسلك العارية

والدليل على أنه يسلك به مسلك العارية أن لا يخلو إما أن يسلك به مسلك المبادلة وهي تمليك الشيء بمثله أو يسلك به مسلك العارية لا سبيل إلى الأول لأنه تمليك العين بمثله نسيئة وهذا لا يجوز، فتعين أن يكون عارية فجعل التقدير كأن المستقرض انتفع بالعين مدة ثم رد عين ما قبض وإن كان يرد بدله في الحقيقة وجعل رد بدل العين بمنزلة رد العين. (بدائع الصنائع:، فصل في شرائط القرض، كتاب القرض: ۷/۳۹٦، سعيد).

عالمگیری میں ہے:

وعن أبي يوسف رحمه الله في رواية يجوز استقراضه (الدقيق) وزناً استحساناً إذا تعارف الناس ذلك وعليه الفتوى كذا في الغياثية. (الفتاوى الهندية: ۳/۲۰۱).

جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
کھانے پینے کی جن چیزوں میں عادۃً تسامح سے کام لیا جاتا ہے ان میں قرض دینے اور لینے سے مقصد نفع کمانا نہیں ہوتا بلکہ محض وقتی ضرورت پوری کرنا مقصد ہوتا ہے، اس میں معمولی کمی و زیادتی سود میں داخل نہیں، لہذا ان چیزوں میں سود کا تحقق نہیں ہوگا ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۱۸۷) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
مبادلۃ الجنس بالجنس ہونے کی وجہ سے ربا کا مغالطہ ہو سکتا تھا، مگر در حقیقت اس صورت میں ربا نہیں، بلکہ یہ قرض ہے، ربا جب ہوتا ہے کہ مبادلۃ الجنس بغیر الجنس ہو یا مبادلۃ الجنس بالجنس ہو اور اس میں لفظ بیع یا مبادلہ یا معاوضہ استعمال کیا گیا ہو، اگر جنس دے کر وہی جنس واپس لینے کا معاملہ ہو مگر بیع یا مبادلہ یا معاوضہ کے الفاظ نہیں کہے تو یہ قرض ہے خواہ قرض کا لفظ کہے یا نہ کہے اور یہ بلا شبہ جائز ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۷/۱۷۳) ۔
عطر ہدایہ میں ہے:
اور قرض کی یہ صورت بھی بیع نسیۃً بالجنس الواحد میں داخل ہونے سے ربا تھی لیکن چونکہ اس کا مقصود بالذات باعتبارِ وضع صلہ و احسان ہے مبادلہ گو ہوتا ہے مگر مقصود بالذات مبادلہ نہیں ہوتا مقصود بالذات احسان و صلہ ہے اس لیے چونکہ شارع نے اس کو جائز بلکہ مندوب قرار دیا ہے اور اس کے جواز پر اجماع امت ہے ہدایہ کے حاشیہ میں ہے:
قوله وهو ربا وهذا يقتضي فساد القرض لكن ندب الشارع إليه وأجمع الأمة على جوازه. (حاشية الهداية: ۳/۷٦، رقم الحاشية ۱۹). (
عطر ہدایہ، ص
٤۱٦
) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (معلم الفقہ ترجمہ اردو مجموعۃ الفتاوی:
۲
/
۱۷٦
، باب القرض و الرشوۃ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.