اللہ کے راستے میں تضعیفِ اجر کا حکم:

9 min readFatwa Vol 1 #209Urdu

Question

تبلیغی جماعت میں جانے والے حضرات کی نماز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی ایک نماز کا ثواب ٤۹ کروڑ ہے اس کا ثبوت ہو تو بتلا دیجیے اور اگر کوئی ثبوت ہے تو کیا تبلیغ میں جانے والے کی نماز کا ثواب مسجد الحرام کی نماز سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ مسجد الحرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لا کھ ہے؟

Answer

تبلیغی حضرات جو بات کہتے ہیں یہ ان کی خصوصیت نہیں بلکہ عام ہے، جو بھی اللہ کے راستہ میں نکلے خواہ جہاد کے لیے، طلب علم کے لیے یا حج و عمرہ کے لیے، یا کسی اور دینی نسبت سے وہ اس ثواب کا مستحق ہو گا اسی طرح یہ فضیلت ایک روایت سے نہیں لی گئی بلکہ دو حدیثوں کو ملا کر تبلیغی حضرات یہ بات کہتے ہیں ۔
پہلی حدیث:

"عن جماعة من الصحابة مرفوعاً: من أرسل بنفقة في سبيل الله ومن غزي بنفسه في سبيل الله وأنفق في وجه ذلك فله بكل درهم سبع مائة ألف درهم، ثم تلا هذه الآية والله يضاعف لمن يشاء". (رواه ابن ماجه باب فضل النفقة في سبيل الله، ص ۱۹۸).
قلت: إسناده ضعيف؛ فيه: الخليل بن عبد الله وهو مجهول.
وقال بشار عواد: إسناده ضعيف لأجل الخليل بن عبد الله الخ. (سنن ابن ماجه بتعليق بشار عواد: ٤/۵٦).
وبالجملة فالحديث ضعيف لكن يعمل به في فضائل الأعمال.

یعنی جس نے اللہ کی راہ میں اپنی جان سے جہاد کیا اور اللہ کے راستہ میں ایک درہم بھی خرچ کیا تو اس کو ہر درہم کے بدلہ سات لا کھ درہم کا ثواب ملے گا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ راہِ خدا میں ایک درہم کا خرچ کرنا سات لا کھ درہم خرچ کرنے کے برابر ہے ۔
تنبیہ: لیکن قابل اشکال بات یہ ہے کہ حدیث شریف میں
"غزي"
کا لفظ ہے جو خاص معنی یعنی میدانِ کار زار میں دشمن پر حملہ آور ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لہذا اس کو دیگر معانی مثلاً دعوت و تبلیغ، طلبِ علم وغیرہ میں استعمال کرنا غالباً مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔
یہ اشکال مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا ہے ۔
ملاحظہ ہو حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اگر ان دونوں حدیثوں کو قابل استدلال تسلیم بھی کر لیا جائے تو چونکہ ان میں سے ایک روایت میں
"من غزي بنفسه"
کی تصریح ہے، اس لیے اس موقع پر فی سبیل اللہ میں عموم مراد لے کراس فضیلت کو دین کے دوسرے شعبوں کے لیے عام و شامل ماننے کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ یہ فضیلت صرف غزوہ کرنے والے یعنی کفار کے خلاف بر سر پیکار مجاہدین کے ساتھ خاص ہوگی ۔ (احسن الفتاوی: ۹/۱۸۳) ۔
اہل لغت کے چند اقوال ملاحظہ ہو:
القاموس المحیط میں ہے:

غزاه وغزواً أراده وطلبه وقصده والعدو: سار إلى قتالهم وانتهابهم، غزواً وغزواناً وغزاوة. (القاموس المحيط: ۱/۱٦۹۸، وكذا في المعجم الوسيط، ص: ٦۵۲).
وفي المحيط الأعظم (٦/۳۸): الغزو: السير إلى قتال العدو وانتهابه.

لیکن بخاری شریف کی حدیث
"من جهز غازياً في سبيل الله فقد غزي ومن خلف غازياً في سبيل الله فقد غزي". (۱/۵۹۸)
سے پتہ چلتا ہے کہ کبھی کبھی غزوہ غیر قتال میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔
دوسری حدیث:

عن سهل بن معاذ عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: إن الصلاة والصيام والذكر يضاعف على النفقة في سبيل الله بسبع مائة ضعف".
رواه أبو داود: (۱/۳۳۸، باب في تضعيف الذكر في سبيل الله عز وجل، ط: سعيد)، والحاكم (رقم: ۲٤۱۵)، وقال: صحيح الإسناد، ووافقه الذهبي، وأخرجه البيهقي في "الكبرى" (۹/۱۷۲).
قلت: إسناده ضعيف؛ فيه: زبان بن فائد المصري، قال أحمد: أحاديثه مناكير. وقال ابن معين: شيخ ضعيف. وقال ابن حبان: منكر الحديث جداً يتفرد عن سهل بن معاذ بنسخة كأنها موضوعة لا يحتج به. وقال الساجي: عنده مناكير. (تهذيب التهذيب: ۳/۲۷٤/۲۰٦۷).
(۲) وسهل بن معاذ بن أنس الجهني، قال ابن معين: ضعيف. قلت (ابن حجر): لا يعتبر حديثه ما كان من رواية زبان بن فائد عنه وذكره في الضعفاء فقال: منكر الحديث جداً. (تهذيب التهذيب: ٤/۲۳٤/۲۷٦۰، وتحرير التقريب، ج ۲).
وقال المناوي: وهو حديث ضعيف لضعف زبان بن فائد. (التيسير بشرح الجامع الصغير للمناوي: ۱/۵۹۲/۲٤۹۸).
وبالجملة فالحديث ضعيف لكن يعمل به في فضائل الأعمال.

یعنی اللہ کے راستے میں نماز، روزہ اور ذکر کا ثواب اللہ کے راستے میں خرچ کے مقابلہ میں سات سو گناہ زیادہ ہے ۔ اس سات لا کھ کو سات سو سے ضرب دیں تو ٤۹۰ ملین یعنی ٤۹ کروڑ بن جاتے ہیں اس ٤۹ کروڑ والی روایت کی یہ حقیقت ہے ۔
پھر اس ٤۹ کروڑ کے ثواب میں اور مسجد الحرام کے ثواب میں کوئی تقابل مقصود نہیں ہے، جیسا کہ اگر کہا جائے کہ فلاں شخص سب سے بہتر ہے، تو اس بات سے یہ لا زم نہیں آتا کہ وہ صحابہ سے بھی بہتر اور افضل ہو گیا؛ کیوں کہ دونوں میں کوئی تقابل مقصود نہیں ہے ۔ اسی طرح یہاں جو ثواب بیان ہوا اس میں اور مسجد الحرام کے ثواب میں کوئی تقابل نہیں ۔
تاہم اگر تقابل کیا جائے تو ایک روایت کے مطابق مسجد حرام کا ثواب ایک لا کھ سے زیادہ بنتا ہے ۔ ملا علی القاری رحمہ اللہ نے شرحِ مشکوٰۃ میں ایک حدیث کے ذیل میں لکھا ہے:

"قال رسول الله ﷺ: صلاة الرجل في بيته بصلاة أي تحسب بصلاة واحدة وصلاته في مسجد القبائل بخمس وعشرين صلاة أي بالإضافة إلى صلاة في بيته لا مطلقا وصلاته في المسجد الذي يجمع فيه بخمس مائة صلاة أي بالنسبة إلى مسجد الحي وصلاته في المسجد الأقصى بخمسين ألف صلاة أي بالنسبة إلى ما قبله وصلاته في مسجدي بخمسين ألف صلاة أي بالإضافة إلى ما يليه وصلاته في المسجد الحرام بمائة ألف أي بالنسبة إلى مسجد المدينة على ما يدل عليه سياق الكلام فيحتاج إلى ضرب الأعداد في بعض فإنه ينتج مضاعفة كثيرة". (المرقاة: ۲/۲۲۸).

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی کی نماز اپنے گھر میں ایک نماز ہے یعنی ایک نماز کا حساب ہوگا اور محلہ کی مسجد میں ۵۲ نمازیں یعنی گھر کی نماز کے مقابلہ میں، مطلقاً نہیں ۔ اور اس کی نماز جامع مسجد میں ۵۰۰ نمازیں یعنی بنسبت ما قبل کے اور اس کی نماز میری مسجد میں ۰۰۰، ۵۰ہزار نمازیں بنسبت ما قبل کے اور اس کی نماز مسجد الحرام میں ایک لا کھ نمازیں یعنی مسجد نبوی کے مقابلہ میں، پس ضروری ہے کہ بعض اعداد کو بعض میں ضرب دیا جائے تو نتیجہ بہت اضافہ کے ساتھ سامنے آئے گا ۔
چنانچہ ضرب و حساب درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
گھر میں: ۱ (ایک)
محلہ کی مسجد: ۲۵ ۔
جامع مسجد: ۲۵×۵۰۰=۱۲۵۰۰ ۔
مسجدِ اقصیٰ: ۱۲۵۰۰× ۰۰۰، ۵۰=۰۰۰، ۰۰۰، ٦۲۵ ۔
مسجدِ نبوی: ۰۰۰، ۰۰۰، ٦۲۵×۰۰۰، ۵۰=۰۰۰، ۰۰۰، ۰۰۰، ۳۱۲۵۰ ۔
مسجدِ حرام: ۰۰۰، ۰۰۰، ۰۰۰، ۳۱۲۵۰×۰۰۰، ۱۰۰=۰۰، ۰۰۰، ۰۰۰، ۰۰۰، ۳۱۲۵۰ ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھے تو ایک نماز کا ثواب ملتا ہے اور اگر اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھے تو اس سے ۲۵ گنا زیادہ ثواب ملتا ہے اور اگر جامع مسجد میں نماز پڑھے تو اس کو (۲۵ x۵۰۰ مساوی ۱۲۵۰۰) ثواب ملتا ہے اور اگر مسجدِ اقصی میں نماز پڑھے تو اس کو (۱۲۵۰۰۰x۰۰۰، ۵۰ مساوی ۰۰۰، ٦۲۵۰۰۰) ثواب ملتا ہے اور اگر مسجد نبوی میں نماز پڑھے گا تو اسے (۰۰۰، ۰۰۰، ٦۲۵x۵۰۰۰۰ مساوی ۰۰۰۰۰، ۰۰۰، ۲۵۰، ۳۱) ثواب ملے گا اور اگر مسجد حرام میں نماز پڑھے گا تو اسے۰۰ ۰۰۰، ۰۰۰، ۳۱۲۵۰x۰۰۰ق ۱۰۰ مساوی ۰۰۰، ۰۰۰، ۰۰۰، ۰۰۰، ۳۱۲۵۰۰۰) ثواب ملے گا ۔
یعنی ۳۱ سنکھ ۲۵ قدم ثواب ملے گا ۔ یاد ر ہے کہ سو ہزار کا ایک لا کھ اور سو لا کھ کا ایک کروڑ اور سو کروڑ ایک ارب اور سو ارب ایک کھر ب اور سو کھرب ایک پدم اور سو پدم کا ایک قدم ہو تا ہے اور سو قدم کا ایک سنکھ، اب آپ اندازہ لگائیں کہ مسجدِ حرام میں ایک نماز کا ثواب کتنا عظیم ہے جس کا اندازہ ہماری عقل نہیں کر سکتی اللہ تعالی ہم سب کو یہ ثواب عطا فرمائیں ۔ آمین ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.