بطخ ذبح کرنے کا شرعی طریقہ:
Question
ایک بطخ فروش نے یہ بات بتلائی کہ بطخ کے حلال ہونے کے لیے بطخ ذبح کرنے سے پہلے اس کے پیروں کے درمیان کی جھلی کا کاٹنا ضروری ہے، نیز جھلی کاٹتے وقت بسم اللہ، اللہ اکبر کہنا بھی ضروری ہے، پھر یہ بھی بتلایا کہ تمام جھلی والے جانوروں اور پرندوں میں احناف کے نزدیک یہی حکم ہے، چنانچہ ان کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے ہم نے جھلی کو کاٹا تو خون بھی نکلا، پھر ہم نے ذبح کیا ۔ برائے کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں صحیح مسئلہ سے آگاہ کیجیے؟
Answer
جانور کو ذبح سے پہلے بے فائدہ زخمی کرنا اور اذیت پہنچانا شرعاً مکروہ اور ممنوع ہے، اور جہاں تک حلت کا مدار ہے تو وہ شریعتِ مطہرہ نے اونٹ کے علاوہ میں ذبح اختیاری میں رگوں کے کاٹنے پر رکھا ہے، یعنی بسم اللہ پڑھ جانور کی اکثر رگیں کاٹ دیں تو جانور حلال ہو جائے گا، اس سلسلہ میں جھلی والے جانور اور غیر جھلی والے دونوں برابر ہیں کوئی فرق نہیں ہے ۔
کراہت کی وجوہات حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
(۱) شریعت نے احسان کرنے کا حکم دیا ہے ۔ حدیث میں ہے:
عن شداد بن أوس رضي الله عنه قال: ثنتان حفظتهما عن رسول الله ﷺ، قال: إن الله تعالى كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته. (رواه مسلم: ۲/ ۱۵۲، باب الامر بإحسان الذبح والقتل).
حضرت شداد بن اوس
رضي الله عنه
فرماتے ہیں دو باتیں میں نے آنحضرت ﷺ سے یاد کر لی ہیں، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے احسان کو ہر چیز پر لازم کر دیا ہے پس جب تم (کسی کافر کو) قتل کرو تو اچھے انداز میں قتل کرو، اور جب تم (کسی جانور کو) ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، اور اپنی چھری تیز کر لو اور اپنے جانور کو راحت پہنچاؤ ۔
حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ ذبیحہ کو راحت پہنچانا چاہیے، جب کہ زخمی کرنا اس کے خلاف ہے ۔
(۲) قبل الذبح جانور کو کسی قسم کی اذیت دینا مکروہ اور شریعت کے خلاف ہے ۔
ملاحظہ ہو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
ومن بلغ بالسكين النخاع أو قطع الرأس كره له ذلك
لما روي عن النبي ﷺ أنه نهي أن تنخع الشاة إذا ذبحت
وكل ذلك مكروه وهذا لان في جميع ذلك زيادة تعذيب الحيوان بلا فائدة وهو منهي عنه والحاصل أن ما فيه زيادة إيلام لا يحتاج إليه في الذكاة مكروه. (الهداية: ٤/ ٤۳۹).
(۳) فقہاء نے تصریح فرمائی کہ ذبح اختیاری میں جانور کو اگر محل ذبح کے علاوہ کسی اور جگہ زخمی کیا جائے اور اس سے موت واقع ہو جائے تو وہ جانور حرام ہوگا ۔ اور صورت مسئولہ میں بطخ کی حلت کا جھلی کاٹنے پر موقوف ہونا روایت و درایت کے مخالف ہے ۔ نیز اصول و قواعدِ شریعت سے بھی متصادم ہے، بلکہ اگر یہی زخم مفضی الی الہلاک ہو گیا تو جانور حرام ہوگا، لہذا اس طریقہ سے مکمل احتراز و اجتناب لازم اور ضروری ہے ۔
ذبح اختیاری کا شرعی طریقہ ملاحظہ ہو:
قال الإمام القدوري: والذبح في الحلق واللبة والعروق التي تقطع في الذكاة أربعة: الحلقوم، والمري، والودجان، فإذا قطعها حل الأكل، وإن قطع أكثرها فكذلك عند أبي حنيفة رحمه الله. (مختصر القدوري مع، ص ٤۹٤، مؤسسة الريان).
وفي التصحيح والترجيح: قال في زاد الفقهاء: الصحيح قول أبي حنيفة رحمه الله، واعتمده الإمام المحبوبي والنسفي وغيرهما. (التصحيح والترجيح على هامش مختصر القدوري مع، ص ٤۹۵، مؤسسة الريان).
ہاں مفسرین نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ یہود پر ان کی شرارت اور سرکشی کی وجہ سے عارضی طور پر جھلی والے جانور حرام کیے گئے تھے، بعد میں یہ منسوخ ہو گیا تھا ۔ جیسے شحم اور چربی ان حرام کی گئی تھی ۔
ملاحظہ ہو امام ابو بکر جصاص احکام القرآن میں فرماتے ہیں:
وعلى الذين هادوا حرمنا كل ذي ظفر
بين النبي ﷺ أن حكم ذلك التحريم إنما كان موقتاً إلى هذا الوقت وإن مضي الوقت أعاده إلى ما كان عليه من حكم الإباحة فلا فرق بينه في هذا الوجه وبين ما لم يحظر قط
كل ذي ظفر قال ابن عباس وسعيد بن جبير وقتادة والسدي ومجاهد هو كل ما ليس بمفتوح الأصابع كالإبل والنعام والإوز والبط. (أحكام القرآن: ۳/ ۲۲، ط: سهيل، تفسير ابن كثير: ۲/ ۲۰۷).
علامہ آلوسی مفتی بغداد فرماتے ہیں:
﴿وعلي الذين هادوا﴾ أي اليهود خاصة لا على من عداهم من الأولين والآخرين. (روح المعاني: ۸/ ٤۷).
مولانا ادریس کاندھلوی صاحب معارف القرآن میں فرماتے ہیں:
یہ چیزیں فی حد ذاتہ حلال و طیب ہیں مگر یہود کی نافرمانی اور شرارت کی وجہ سے ہم نے یہ چیزیں خاص طور پر صرف یہود پر حرام کیں تاکہ ان پر دائرۂ رزق تنگ ہو جائے ورنہ یہ چیزیں فی نفسہ قابل تحریم نہ تھیں صرف عارضی طور پر یہود کے حق میں حرام کی گئیں ۔ (معارف القرآن:
۳
/ ٤
۳
، ط: مکتبۃ المعارف) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2329
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2329