ذبح فوق العقدہ کا حکم:
Question
بعض حضرات اس جانور کے کھانے کو ناجائز اور حرام کہتے ہیں جو جانور فوق العقدہ ذبح کیا گیا ہو ۔ اگر اس طریقہ میں سب رگیں یا اکثر رگیں کٹ گئیں ہوں تو پھر ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟
Answer
مفتی اعظم پاک و ہند حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ذبح کا مدار شرعاً اکثر عروق کے قطع ہو جانے پر یعنی من جملہ چار عروق کے حلقوم، مری، ودجین کے تین عروق قطع ہو جائیں تو ذبح متحقق ہو جائے گا، خواہ کسی طریق پر قطع کیا جائے فوق العقدہ یا تحت العقدہ بلکہ حلق کی جانب سے یا گدی کی جانب سے البتہ جس صورت میں جانور کو تکلیف زیادہ ہو اس کا اختیار کرنا دوسری حیثیت سے ممنوع و مکروہ ہے لیکن حلت ذبیحہ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا، اب یہ بات تجربہ کے متعلق رہ گئی کہ فوق العقدہ ذبح کرنے سے عروق ثلاثہ قطع ہو جاتی ہیں یا نہیں؟ اگر ہو جاتی ہیں تو ذبیحہ درست ہے ورنہ نہیں، لیکن اکثر اہل تجربہ کے بیان سے قطع ہو جانے کی تصدیق ہوئی ہے ۔ (امداد المفتین، جلد دوم، ص ۷۷۹، دار الاشاعت) ۔
فتاوی الشامی میں ہے:
قال في الهداية: وفي الجامع الصغير: لا بأس بالذبح في الحلق كله وسطه وأعلاه وأسفله، والأصل فيه قوله عليه الصلاة والسلام: "الذكاة ما بين اللبة واللحيين" ولأنه مجمع العروق فيحصل بالفعل فيه إنهار الدم على أبلغ الوجوه فكان حكم لكل سواء، وعبارة المبسوط: الذبح ما بين اللبة واللحيين كالحديث. قال في النهاية: وبينهما اختلاف من حيث الظاهر لأن رواية المبسوط تقتضي الحل فيما إذا وقع الذبح قبل العقدة لأنه بين اللبة واللحيين، ورواية الجامع تقتضي عدمه لأنه إذا وقع قبلها لم يكن الحلق محل الذبح فكانت رواية الجامع الصغير مقيدة لإطلاق رواية المبسوط.
وقد صرح في الذخيرة بأن الذبح إذا وقع أعلي من الحلقوم لا يحل لأن المذبح هو الحلقوم لكن رواية الإمام الرُسْتُغْفَني (هو على بن سعيد أبو الحسن، من رُّسْتُغْفَن بضم الراء وسكون السين وضم التاء وسكون الغين وبالنون بعد الفاء: قرية من قري سمرقند، كان من كبار مشايخ سمرقند، كان من أجل أصحاب أبي منصور الماتريدي) تخالف هذه، حيث قال: هذا قول العوام وليس بمعتبر، فتحل سواء بقيت العقدة مما يلي الرأس أو الصدر، لأن المعتبر عندنا قطع أكثر الأوداج وقد وجد، وكان شيخي يفتي بهذه الرواية ويقول: الرستغفني إمام معتمد في القول والعمل، ولو أخذنا يوم القيامة للعمل بروايته نأخذه كما أخذنا، ما في النهاية ملخصاً. وذكر في العناية أن الحديث دليل ظاهر لهذه الرواية ورواية المبسوط تساعدها، وما في الذخيرة مخالف لظاهر الحديث. أقول: بل رواية الجامع تساعد رواية الرستغفني أيضاً، ولا تخالف رواية المبسوط بناء علي ما مر عن القهستاني من إطلاق الحلق على العنق
أقول: والتحرير للمقام أن يقال: إن كان بالذبح فوق العقدة حصل قطع ثلاثة من العروق، فالحق ما قاله شراح الهداية تبعاً للرستغفني وإلا فالحق خلافه، إذ لم يوجد شرط الحل باتفاق أهل المذهب، ويظهر ذلك بالمشاهدة أو سؤال أهل الخبرة، فاغتنم هذا المقال ودع عنك الجدال. (فتاوى الشامي: ٦/ ۲۹٤، سعيد).
(وكذا في اللباب في شرح الكتاب: ٤/ ۵٦۳. ۵٦٦، كتاب الصيد والذبائح).
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:
مقتضي رواية الجامع أن الذبح لو وقع في أعلي من الحلقوم كان المذبوح حلالاً وكلامه هكذا هذه الرواية تقتضي أن يحل وإن وقع الذبح فوق الحلق قبل العقدة ولو جعل بين بمعني في كما في الكرماني لم يستقم كما لا يخفي وقيل لا يجوز فوق العقدة وإنما أتي بصيغة التمريض لمخالفة ظاهر الحديث الذي مر آنفاً. (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: ٤/ ۱۵۸، كتاب الذبائح، ط: دار الكتب العلمية).
قال الشيخ أسعد الصاغري في "الفقه الحنفي وأدلته": وفي حديث أبي أمامة قال رسول الله ﷺ: للجارية في الشاة المعطوبة، وقد كسرت حجراً من المروة، فذبحتها بها، وجائته بأمر سيدها عقبة بن عمر قال لها: "هل أفريت الأوداج؟ " قالت: نعم، قال: "كل ما فري الأوداج
" الحديث. [معجم الطبراني: ۸/ ۲۱۱] وعليه فإذا قطع فوق العقدة، فقد حل، لأنه قطع ثلاثة من أربعة، وإن قطع تحت العقدة، وجعلها تابعة للرأس فقد قطع العروق الأربعة، وهو الأتم إن شاء الله تعالى. (الفقه الحنفي وأدلته: ۳/ ۱۹۹، كتاب الذبائح، بيروت).
علامہ ملا خسرو رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "درر الحکام فی شرح غرر الاحکام" میں جواز و حلت کو ترجیح دی ہے ۔
ملاحظہ ہو: (
درر الحكام في شرح غرر الأحكام: ۱/ ۲۷٦، كتاب الذبائح).
حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے پہلے حرمت کا فتوی دیا تھا، پھر مشاہدہ کے بعد رجوع فرمایا ۔ ملاحظہ ہو:
حلت و حرمت دونوں قولوں میں اختلاف کا مبنی صرف یہ ہے کہ ذبح فوق العقدہ میں حلقوم اور مری قطع ہوں گے یا نہیں، سو یہ امر مشاہدہ کے متعلق ہے، مشاہدہ کے بعد اس میں اختلاف کی گنجائش نہیں، اور چونکہ مشاہدہ قطع کا روایتِ ثقات سے محقق ہو چکا اس لیے حلت کا حکم دیا جاوے گا، مدت ہوئی کہ احقر نے اس کی حرمت کا فتوی کتب فقہ سے نقل کیا تھا، اب اس سے رجوع کرتا ہوں ۔ (امداد الفتاوی: ۳/ ۵۳۹، ترجیح خامس) ۔
حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
بندہ نے اس کو تحقیق کیا ہے اور گائے مذبوح کا سر منگا کر دیکھا ہے لہذا بندہ کی رائے میں اکثر عروق قطع ہو جاتی ہیں اور مذبوح حلال ہے، اور حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، کیوں کہ ذبح بحکمِ حدیث "
ما بين اللبة واللحيين"
ہے ۔ واللہ اعلم ۔ حررہ خلیل احمد عفی عنہ ۔ (فتاوی خلیلیہ، ص ۲۸۸، مکتبۃ الشیخ) ۔
عزیز الفتاوی میں ہے:
صاحب رد المحتار معروف شامی نے اس بارہ میں یہ قول فیصل لکھا ہے: اقول: التحریر للمقام الخ ۔ اور اہل تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ عروق ذبح فوق العقدہ ذبح کرنے سے بھی قطع ہو جاتی ہیں لہذا، اس کی حلت میں شبہ نہیں ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۱/ ٦۷٤، دار الاشاعت) ۔
فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عقدہ سے اوپر جانور ذبح کیا، اگر مرئی کٹ گئی تو حلال ہے اور اگر یہ رگ نہیں کٹی تو حرام ۔ اسی کو در مختار کے مصنف نے ترجیح دی ہے اور سب روایات جمع کی ہیں، یہ ہی سب سے بہتر ہے ۔ (باقیاتِ فتاوی رشیدیہ، ص ۲۳۵) ۔
بعض فقہاء نے ذبح فوق العقدہ کو غیر معتبر مانا ہے، ان کے اسماء درجِ ذیل ہیں:
علامہ سید احمد طحطاوی ۔ علامہ زیلعی صاحبِ تبیین الحقائق ۔ برہان الدین محمود بن احمد البخاری صاحبِ ذخیرہ ۔ صدر الشریعہ صاحب النقایہ ۔ ملا علی القاری ۔ صاحب المواہب ۔ علامہ شمنی ۔ علامہ شرنبلالی ۔ ابن کمال باشا، وغیرہ ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (
فتاوى الشامي: ٦/ ۲۹۵، سعيد، وحاشية الطحطاوي على الدر المختار ٤/ ۱۵۰. ۱۵۱، ط: كوئته، وتبيين الحقائق: ۵/ ۲۹۰، إمدادية، وفتح باب العناية: ٤/ ۷۵، ط: بيروت، وحاشية الشرنبلالي: ۱/ ۲۷٦).
لیکن ناجائز کہنے والوں کے دلائل پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ منع کرنے کی اصل علت رگوں کا صحیح طور پر نہ کٹنا ہے، بایں وجہ ذبح فوق العقدہ کی حرمت کے قائل ہوئے ۔ چنانچہ علامہ زیلعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ما قاله الرستغفني مشكل، فإنه لم يوجد فيه قطع الحلقوم ولا المريء وأصحابنا وإن اشترطوا قطع الأكثر فلا بد من قطع أحدهما عند الكل، وإذا لم يبق شيء من العقدة مما يلي الرأس لم يحصل قطع واحد منهما فلا يؤكل بالإجماع، الخ. (تبيين الحقائق: ۵/ ۲۹۰، ط: إمدادية، ملتان).
علامہ سید احمد طحطاوی رحمہ اللہ نے علامہ زیلعی کی تائید فرمائی ہے ۔ ملاحظہ ہو:
والذي ظهر لي أن الحق قول الزيلعي رحمه الله ومن معه
وعلى كل فالاحتياط في المتفق عليه. والله تعالى أعلم بالصواب. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/ ۱۵۱، كوئته).
لكن رده محشيه الشلبي والحموي، وقال المقدسي: قوله لم يحصل قطع واحد منهما ممنوع بل خلاف الواقع، لأن المراد بقطعهما فصلهما عن الرأس أو عن الاتصال باللبة. (فتاوى الشامي: ٦/ ۲۹۵، سعيد).
عثمانية
نیز حاشیۃ الدرر میں مولانا ابو سعید محمد بن مصطفی الخادمی نے علامہ زیلعی کے قول کی تردید فرمائی ہے کہ یہ رائے نص کے مقابل ہے لہذا، اس کا اعتبار نہیں ۔ ملاحظہ ہو: (
حاشية الدرر على الغرر، ص ۱۳۵، كتاب الذبائح، مطبعه عثمانية).
حاصل یہ ہے کہ علامہ شامی رحمہ اللہ، حضرت تھانوی رحمہ اللہ اور حضرت مولانا خلیل احمد صاحب رحمہ اللہ، حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ وغیرہ کی مذکورہ بالا تحقیق اور مشاہدہ و تجربہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ تمام رگیں اچھی طرح کٹ جاتی ہیں لہذا، عدمِ حلت کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی، اور مانعین کا قول اس کے بالمقابل مرجوح ثابت ہوتا ہے ۔
و فتاویمزید ملاحظہ ہو: (امداد الاحکام: ۲۵۲، و فتاوی محمودیہ: ۱۷/ ۲٤٦، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2330
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2330