ذبح بالنار کا حکم:

3 min readFatwa Vol 6 #42Urdu

Question

فقہاء نے آگ کے ذریعہ ذبح کو تسلیم کیا ہے، کہ اگر بسم اللہ پڑھ کر آگ کے ذریعہ جانور ذبح کیا جائے تو جائز ہوگا، اس کا حوالہ مطلوب ہے، اور اس کا کیا طریقہ ہے؟

Answer

فقہاء نے فقہ کی کتابوں میں صراحت کی ہے کہ آگ کے ذریعہ ذبح کرنے سے جانور حلال ہوتا ہے، جب کہ آگ ذبح کا عمل کرے، یعنی رگیں کٹ جائیں اور خون بہہ جائے، بظاہر نار سے رگوں کا کٹنا عجیب معلوم ہوتا ہے، کیوں کہ آگ بظاہر قاطع نہیں محرق ہے، حضرت مفتی محمود پاکستانی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کند لوہے کو جو کاٹتا نہیں آگ میں سرخ کر کے اس میں کاٹنے کی قوت پیدا کی جائے اور پھر اس سے جانور کی رگوں کو کاٹ دے اور خون بہہ جائے تو ذبح متحقق ہو جائے گا۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

وحل الذبح بكل ما أفري الأوداج وأنهر الدم أي أساله ولو بنار. وفي رد المحتار: قوله ولو بنار قال: في الدر المنتقي: وهل تحل بالنار على المذبح؟ قولان، الأشبه لا كما في القهستاني عن الزاهدي. قلت: لكن صرحوا في الجنايات بأن النار عمد وبها تحل الذبيحة لكن في المنح عن الكفاية إن سال بها الدم تحل وإن تجمد لا، فليحفظ وليكن التوفيق. (الدر المختار: ٦/۲۹٦، سعيد).
مجمع الأنهر
میں ہے:

وقال في الكفاية: ألا تري أنها تعمل عمل الحديد حتى أنها أي النار إذا وضعت في المذبح فقطعت ما يجب قطعه في الذكاة وسال بها الدم حل وإن انجمد ولم يسل لا يحل انتهي،

وفي الخلاصة:

لا يجعل النار كالسلاح في حكم الذكاة حتى لو توقدت النار على المذبح وانقطع بها العروق لا يحل أكله انتهي، لكن قال في البزازية: إن النار تعمل في الحيوان عمل الذكاة حتى لو قذف النار في المذبح فاحترق العروق يؤكل انتهي، وهذا موافق لما قدمناه عن الكفاية ويحمل ما إذا سال بها الدم وبه يحصل التوفيق بين كلامي صاحب الخلاصة والبزازية. (مجمع الأنهر شرح ملتقى الأبحر: ۲/ ٦۱۵، كتاب الجنايات).
(وكذا في الكفاية على الهداية: ۹/ ۱۳9، كتاب الجنايات، مكتبه رشيديه).

احسن الفتاوی میں ہے:
پس مشین سے ذبح کرنے کی مثال بالکل یوں سمجھیں کہ آگ جل رہی ہو آپ نے لوہے کی نلکی لی اور بسم اللہ پڑھ کر اس کے ذریعہ آگ مذبوح تک پہنچا دی یا نلکی کی بجائے اور کوئی ایسی چیز آگ اور مذبوح کی گردن کے درمیان رکھ دی جس کے ذریعہ آگ مذبوح تک پہنچ گئی اور عروق منقطع ہو کر خون بہ گیا تو کیا ایسے جانور کی حلت میں کوئی شبہہ ہو سکتا ہے ۔ (احسن الفتاوی:
۷
/ ٤
۷٤
) ۔
آگ سے ذبح کی اس پر تکلف توجیہ کے مقابلے میں حضرت مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ کی توجیہ بے تکلف ہے، حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمہ اللہ اس تشریح پر حضرت مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ کو داد دیتے تھے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.