مخصوص اعضا پر زیورات پہننے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #87Urdu

Question

آج کل تحسین اور تزیین کا ایک نیا دور چلتا ہے جس میں عورتیں اپنے چند مخصوص اعضا مثلاً: ناف، زبان، شرمگاہ وغیرہ پر زیور پہنتی ہیں، اور ان اعضا کو چھید کر زیور پہنا جاتا ہے، اور یہ زیور تزیین اور خوبصورتی کے لیے ہوتا ہے، نیز یہ زیور سونے چاندی یا لوہے وغیرہ کا ہوتا ہے، تو کیا شادی شدہ عورت اپنے شوہر کے لیے اس کی رضامندی سے پہن سکتی ہے یا نہیں؟ نیز غیر شادی شدہ لڑکی کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

احادیث اور کتبِ فقہ میں کان اور ہاتھ میں زیورات پہننے کا تذکرہ ملتا ہے، نیز کتبِ فقہ میں ناک میں زیور پہننے کا بھی ذکر موجود ہے لیکن ان اعضا کے علاوہ مثلاً: ناف یا شرمگاہ وغیرہ میں زیور پہننے کا ذکر نہ کتبِ حدیث میں موجود ہے اور نہ کتبِ فقہ میں، اور نہ مسلمان خواتین کا طریقہ ہے، بلکہ یہ فاسقات فاجرات کی ایجاد ہے اس سے مسلم خواتین کو بچنا چاہیے، جب ناف وغیرہ میں زیور ہو گا تو لامحالہ دوسروں کو دکھانے کا بھی اہتمام ہو گا اور یہ اعضا چھپانے کے ہیں دکھانے کے نہیں ہیں، اللہ تعالی غیر اقوام کی تقلید سے مسلمانوں کی حفاظت فرمائیں ۔ آمین ۔
ملاحظہ بخاری شریف میں ہے:

فجعلت المرأة تلقي القرط والخاتم. (رواه البخاري: ۱/۲۰).

عالمگیری میں ہے:

ولا بأس بثقب آذان النسوان كذا في الظهيرية ولا بأس بثقب آذان الأطفال من البنات لأنهم كانوا يفعلون ذلك في زمان رسول الله ﷺ من غير إنكار كذا في الكبري. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۷). (وكذا في الموسوعة الفقهية الكويتية: ۷/۸۷).
قال في الدر المختار: قلت: وهل يجوز الخزام في الأنف لم أره. وقال في الشامية: قلت: إن كان مما يتزين النساء به كما هو في بعض البلاد فهو فيها كثقب القرط، وقد نص الشافعية على جوازه. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/ ٤۲۰، سعيد).
(وكذا في الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۲۰۹، كوئته، وإمداد الفتاوى: ٤/۱۳۵).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.