تعویذ کو خون یا پیشاب سے لکھنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #1Urdu

Question

تعویذ کو خون یا پیشاب سے لکھنے کا کیا حکم ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر خون وغیرہ سے تعویذ لکھتے ہیں تو نفع یقینی ہے تو کیا خون یا پیشاب سے تعویذ لکھنا چاہیے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ خون یا پیشاب سے تعویذ لکھنا جائز نہیں ، اور جن فقہی عبارات سے اس کا جواز معلوم ہوتا ہے وہ مرجوح اور ضعیف ہیں۔ ملاحظہ ہو فتاوی سراجیہ میں ہے:

إذا سال الدم من أنف إنسان يكتب بفاتحة الكتاب بالدم على جبهته وأنفه ونحو ذلك للاستشفاء والمعالجة ولو كتب بالبول إن علم أن فيه شفاء لا بأس به لكن لم يفعل. (الفتاوى السراجية، ص ۳۳۱، ط: زم زم پبلشرز).
البحر الرائق
میں ہے:

وكذا اختار صاحب الهداية في التجنيس فقال: إذا سال الدم من أنف إنسان يكتب فاتحة الكتاب بالدم على جبهته وأنفه يجوز ذلك للاستشفاء والمعالجة ولو كتب بالبول إن علم أن فيه شفاء لا بأس بذلك لكن لم ينقل. (البحر الرائق: ۱/۱۱٦، كوئته).
وفي الحاوي القدسي: وإن سال الدم من أنف إنسان، ولم ينقطع حتى خشي على موته، وقد علم بالتجربة أنه لو كتب فاتحة الكتاب والإخلاص بذلك الدم على جبهته، ينقطع، لا يرخص له فيه.
وقيل: يرخص كما رخص في شرب الخمر للعطشان، وأكل الميتة في المخمصة، وهو الفتوى. (الحاوي القدسي في فروع الفقه الحنفي، باب في انواع متفرقة: ۲/۳۲۰، ط: دار النوادر).
(وكذا في فتاوى الشامي: ۱/۲۱۰، سعيد، والمحيط البرهاني، الفصل الرابع من كتاب الاستحسان: ج ٦، وحاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۳٦٤).

حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ان فقہی عبارات سے متعلق فرماتے ہیں:
یہ حکمِ جواز مرجوح ہے اور اس حکم کا مبنی ضرورتِ علاج ہے جیسے کہ دوسری دوائیں میسر نہ ہو سکے اور علاج سے مایوسی ہو جانے اور شفا شراب میں بقولِ طبیبِ حاذق منحصر ہو جانے کی صورت میں شربِ شراب جائز ہے، مگر یہ واضح رہے کہ حکمِ جوازِ کتابت مرجوح اور ضعیف ہے۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۷٦
، دار الاشاعت)۔
امداد الفتاوی میں ہے: معاذ اللہ قرآنِ مجید کا نجاست سے لکھنا اگر بدونِ اکراہ و اضطرار کے قصد و اختیار سے ہو تو کفر ہے۔ (امداد الفتاوی:
٤
/
۳٦
)۔
حضرت مفتی تقی صاحب ماہنامہ البلاغ میں لکھتے ہیں:
واقعہ یہ ہے کہ البحر الرائق میں سورۂ فاتحہ لکھنے کا جو عمل بیان کیا گیا ہے وہ ہمارے اور ہمارے بزرگوں کے فتوے کے مطابق ہرگز درست نہیں ہے اس لیے کہ نجاست سے قرآنِ کریم کی کوئی آیت لکھنا نہ صرف قرآنِ کریم کی اہانت ہے بلکہ عام طور سے سفلی عمل کرنے والوں کا کام ہوتا ہے جو بذاتِ خود حرام ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ خون، پیشاب یا کسی بھی نجاست سے قرآنِ کریم کی آیات لکھنا خواہ علاج کے لیے ہو مطلقاً حرام ہے۔ (البلاغ، رجب المرجب
۱۴۲۵
؁ھ /ستمبر
۲۰۰٤
؁ء)۔
مزید ملاحظہ ہو: (امداد الفتاوی:
٤
/
۳٦
۔
۳۸
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.