تعویذات میں "یا بدوح" لکھنے کا حکم:
Question
بعض عاملین تعویذات میں "یا بدوح" لکھتے ہیں، کیا اللہ تعالی کے اسماء میں "بدوح" ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
بعض علماء نے لکھا ہے کہ عبرانی زبان میں یہ اللہ تعالی کا نام ہے، لیکن یہ بات یقینی نہیں ، اور اگر عربی نام ہو تو اللہ تعالی کے اسماء توقیفی ہیں یعنی سماعی ہیں اس لیے اس نام کے لکھنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
ملاحظہ ہو فتاوی عثمانی میں ہے: یا بدوح، قرآن میں تو یہ نام نہیں ہے مگر بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ عبرانی زبان میں اللہ کا نام ہے۔ (فتاوی عثمانی:
۱
/
۳۱۲
)۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں اس کے وظیفہ کو جائز قرار دیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
بدوح یہ لفظ عام طور پر بضم باء و تشدید دال مشہور ہے مگر یہ صحیح نہیں ، صحیح لفظ بدوح ہے بفتح باء و تخفیف دال، تحقیق یہ ہے کہ یہ عربی زبان کا لفظ نہیں
(هكذا أفاده شيخنا العلامة مولانا محمد أنور شاه الكشميري قدس سره)
بلکہ عبرانی میں اللہ تعالی کا نام ہے اور اگر عربی قرار دیا جائے تو اس کے معنی عاجز کرنے والے کے ہیں۔ بہر حال خدا کا نام ہونا ثابت ہے تو "یا بدوح" کا وظیفہ بے تامل جائز ہے۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند، جلدِ دوم، ص
۲۱۵
، دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2938
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2938