سنِ یاس کی تحقیق:

2 min readFatwa Vol 1 #298Urdu

Question

سنِ یاس کب سے شروع ہو تا ہے اور اس کے بعد آنے والے خون کا کیا حکم ہے؟

Answer

مفتیٰ بہ قول کے مطابق سن یاس ۵۵ سال ہے، چنانچہ اس کے اندر جو خون آئے وہ حیض شمار ہو گا ۔ اور ملا علی قاری رحمہ اللہ نے شرح نقایہ (
۱
/
۱۲۰
) میں فرمایا فی زماننا ۵۰ سال ہے ۔
الدر المختار میں مرقوم ہے:

(وقيل يحد بخمسين سنة وعليه المعمول) والفتوى في زماننا مجتبى وغيره (تيسيراً) وحده في العدة بخمس وخمسين قال في الضياء وعليه الاعتماد. (الدر المختار: ۱/۳۰٤).
وفي الشامية: (قوله وحده) أي المصنف في باب العدة، قال في البحر: وهو قول مشايخ بخاري وخوارزم وبخط الشارح في هامش الخزائن. قال قاضيخان وغيره وعليه الفتوى. وفي نكت العلامة قاسم عن المفيد أنه المختار، ومثله في الفيض وغيره. (فتاوى الشامي: ۱/۳۰٤).
وقال أيضاً: إنها إذا كانت عادتها قبل الإياس أصفر فرأته كذلك أو علقاً فرأته كذلك كان حيضاً. (فتاوى الشامي: ۱/۳۰٤).

درج کردہ عبارات سے معلوم ہو تا ہے کہ ۵۵ سال سے پہلے جو خون عورت کو آتا ہے وہ حیض ہے خواہ خون خود آئے یا دوا کے نتیجہ میں آئے، ہاں جو خون ۵۵ سال کے بعد آئے وہ اس وقت حیض شمار ہوگا جب کہ اس خون کا رنگ ۵۵ سال سے پہلے آنے والے خون کے رنگ سے ملتا ہو مثلاً پہلے خون کا رنگ اگر سرخ تھا اور اب زرد، سبز یا خاکی ہے تو یہ حیض شمار نہیں ہو گا، اور اگر سرخ و سیاہ ہے تو حیض شمار ہو گا ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.