بعض کتب سے ذکر بالجہر کے بدعت ہونے کا شبہ:
Question
تفسیر مظہری، کبیری، بدائع الصنائع، مجموعۃ الفتاوی اور فتح القدیر، ان مذکورہ کتابوں میں ذکر بالجہر کو بدعت کہا گیا ہے۔ ان میں سے فقط دو کتابوں کی مختصر عبارت درجِ ذیل ہے:
قال في التفسير المظهري: ثم أجمع العلماء على أن الذكر سراً هو الأفضل والجهر بالذكر بدعة إلا في مواضع مخصوصة مست الحاجة فيها إلى الجهر به
الخ. (التفسير المظهري: ۳/۳٦۱).
قال في شرح المنية: وقال أبو حنيفة رحمه الله: ليس كلامنا في مطلق الذكر فلأنه أمر مرغوب فيه في كل الأحيان بل في الجهرية وهو بدعة لقوله تعالى: ﴿ادعوا ربكم تضرعاً وخفية﴾ إلا ما استثني الشرع فإذا تعارضت الأدلة في مقدار المستثنى فالأخذ بالأقل والعمل بما ورائه بالأصل هو الاحتياط إذ فيه الجمع بين الأدلة. (غنية المتملي في شرح منية المصلي، ص: ۵۷٤، ط: سهيل اكيڈمي).
اور اس طرح کی عبارات فتح القدیر: ۲/٤۱، و بدائع الصنائع: ۱/۱۹٦، و مجموعۃ الفتاوی: ۲/۲۳٤، پر ملاحظہ کیجیے۔
اب سوال یہ ہے کہ ان عبارات کی روشنی میں ذکر بالجہر کا کیا حکم ہو گا؟ بینوا توجروا۔
Answer
قاضی ثناء اللہ پانی پتی تفسیر مظہری کے مصنف رحمه الله کے کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ ذکر سری افضل اور ذکر جہری جائز ہے: والأمر بالإخفاء إنما ہو شفقۃ لا لعدم جواز الجہر أصلاً۔ جب ذکر جہری جائز ہے پھر اس کو بدعت کیسے کہا جائے گا اس لیے بندۂ عاجز کے خیال میں بدعت سے لغوی معنی مراد ہے اور لغوی بدعت کبھی واجب ہوتی ہے جیسے اہل باطل کے مقابلہ میں دلائل مرتب کرنا اور کبھی حرام ہوتی ہے جیسے مذاہبِ باطلہ کے مسائل کو اپنانا اور کبھی مندوب ہوتی ہے جیسے مساجد کے مینار کا بنانا اور کبھی مباح ہوتی ہے جیسے چھلنی کا استعمال کرنا اور کبھی خلاف اولی ہوتی ہے جیسے مساجد کی دیواروں کی تزیین کرنا۔
قال في الهندية: لا بأس بنقش المسجد بالجص والساج وماء الذهب والصرف إلى الفقراء أفضل كذا في السراجية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۱۹).
تفسیر مظہری میں بدعت اولی کے مقابلہ میں آئی جو خلافِ اولی کے معنی میں ہے، اسی طرح دیگر فقہاء کے کلام کو سمجھ لیں۔ چونکہ صاحب تفسیر مظہری نقشبندی سلسلہ کے بزرگ تھے اور ان کے ہاں ذکر بالجہر ایک نئی شئی ہے۔ نیز حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله کے مضمون کو بھی ذہن میں رکھ لیں وہ فرماتے ہیں:
اقوال بعض فقہاء کے بعض پر حجت نہیں ہو سکتے یہ خاصہ ہے اختلافِ اقوال کا، و البسط فی المطولات، راقم کی رائے ناقص میں قول مجوزین کا صحیح اور ان میں سے مفصلین کا قول راجح معلوم ہوتا ہے کہ سب آیات و احادیث و اقوال علماء کے جمع ہو جاتے ہیں،
علي أن خير الأمور أعدلها
الخ. (
امداد الفتاوی:
۵
/
۱٦۹
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3017
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3017