والدین کا درسِ نظامی سے روکنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 8 #142Urdu

Question

اگر کسی کے والدین درسِ نظامی کے حصول سے روکتے ہیں تو ان کا اتباع ضروری ہے یا نہیں ؟ اور درسِ نظامی کا حصول مستحب ہے یا اس کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ ضروریاتِ دین سے زائد علوم کا سیکھنا فرض کفایہ ہے، اگر والدین معقول عذر کی وجہ سے روکتے ہیں، مثلاً: نفقہ، سکنی، وغیرہ کا انتظام کرنے والا کوئی نہیں ہے، یا خوفِ فتنہ یا ہلاکت کا اندیشہ ہو، یا بیٹے کی خدمت کے ہر وقت ضرورت مند اور محتاج ہیں وغیرہ، تو ایسی صورت میں ان کی بات ماننا ضروری ہے باقی ویسے ہی منع کرتے ہیں تو ان کی اجازت کے بغیر تعلیم حاصل کرنا عقوق الوالدین میں شامل نہیں ہے، بہت سی مرتبہ والدین دینی مزاج نہ ہونے کی وجہ سے روکتے ہیں ورنہ کوئی خاص معقول عذر نہیں ہوتا اور وہی بچہ بعد میں پورے خاندان والوں کی ہدایت کا ذریعہ اور سبب بن جاتا ہے۔
ملاحظہ ہو در مختار مع فتاوی الشامی میں ہے:

وله الخروج لطلب العلم الشرعي بلا إذن والديه لو ملتحياً، وتمامه في الدرر. وفي الشامية: قوله وله الخروج، أي إن لم يخف على والديه الضيعة إن كانا موسرين ولم تكن نفقتهما عليه وفي الخانية: ولو أراد الخروج إلى الحج وكره ذلك قالوا إن استغني الأب عن خدمته فلا بأس وإلا فلا يسعه الخروج فإن احتاجا إلى النفقة ولا يقدر أن يخلف لهما نفقة كاملة أو أمكنه إلا أن الغالب على الطريق الخوف فلا يخرج ولو الغالب السلامة يخرج وفي بعض الروايات لا يخرج إلى الجهاد إلا بإذنهما فقط لا ينبغي له الخروج لأن مراعاة حقهما فرض عين والجهاد فرض كفاية فإن لم يكن له أبواه وله جدان وجدتان فأذن له أبو الأب وأم الأم دون الآخرين لا بأس بالخروج لقيامهما مقام الأبوين ولو أذن الأبوان لا يلتفت إلى غيرهما هذا في سفر الجهاد، فلو في سفر تجارة أو حج لا بأس به بلا إذن الأبوين إن استغنيا عن خدمته إذ ليس فيه إبطال حقهما إلا إذا كان الطريق مخوفاً كالبحر فلا يخرج إلا بإذنهما وإن استغنيا عن خدمته ولو خرج المتعلم وضيع عياله يراعي حق العيال. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۰۸، سعيد).

امداد المفتین میں ہے:
سوال: زید تعلیم دین حاصل کر رہا ہے اس کے والدین اس کو تعلیم سے منع کرتے ہیں، منع کرنے کی اہم ضرورت یوں ہے کہ اس کی منکوحہ تقریباً تین سال سے بالغہ ہے، اب والدین اس کی شادی کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن بایں شرط کہ تعلیم ترک کرے جب تک اپنی روزی کے لائق نہ ہو جائے۔ آیا اب زید کو بروئے شریعت کیا کرنا چاہیے؟
الجواب: اس صورت میں بہتر اور اسلم طریقہ یہ ہے کہ والدین کو تکمیلِ علمِ دین کے لیے جس طرح ہو راضی کر لیوے اور اگر وہ اس بارے میں والدین کا کہنا نہ مانے تو نافرمان نہ ہو گا اور والدین کو لازم ہے کہ ابھی تکمیلِ علمِ دین کی وجہ سے اس کے نکاح کو ملتوی رکھیں اگر چہ اس کی زوجہ بالغہ ہو گئی ہے۔
شرح شرعة الإسلام، فصل في حقوق الوالدين
میں ہے:
ولا يتركهما لغزو أو حج أو طلب علم، في الخزانة: إنه لو خرج لطلب العلم بغير إذن والديه فلا بأس به ولم يكن ذلك عقوقاً، الخ
۔ (امداد المفتین، جلدِ دوم، ص
۱۹۷
، کتاب العلم، ط: دار الاشاعت)۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (احسن الفتاوی:
۱
/
۳۹۸
، و فتاوی محمودیہ:
۵
/
۳۱۳
، و آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۲۱۸
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.