دنیوی علوم حاصل کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #228Urdu

Question

مسلمان کے لیے دنیوی علوم حاصل کرنا اور اسکول جانا جائز ہے یا نہیں ؟

Answer

زندگی کے ہر شعبہ میں مسلمان کو ضرورت پڑتی ہے اور اس کے لیے ماہرین کی تلاش ہوتی ہے اگر مسلمان کسی بھی دنیوی شعبہ میں حصہ نہیں لیں گے تو غیر مسلم کے سپرد ہو جائیں گے اور اس کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا ہو گا، بنا بریں دنیوی علوم حاصل کرنا اور اس میں ترقی کرنا بھی جائز اور درست ہے بلکہ اسلام اور اہل اسلام کی خدمت کی نیت ہو تو ماجور ہو گا، البتہ مسلمان بچیوں کے لیے خاص پر دہ وغیرہ کا اہتمام ہونا چاہیے اور مخصوص بچیوں کے اسکول میں تعلیم حاصل کرنا زیادہ اولی اور فتنہ سے دور ہے۔
حضرت مفتی عبد الرحیم صاحب لکھتے ہیں: ایسے اسکول قائم کرنا جس میں بقدرِ ضرورت انگریزی وغیرہ دنیوی علوم و فنون سکھائے جائیں اور صنعت و حرفت کے کلاس قائم کرنا، جس سے حلال روزی حاصل کرنے میں مدد مل سکے، بلاشبہ جائز اور کارِ خیر اور موجبِ اجر و ثواب ہے لیکن دینی تعلیم کو اور دینی مدارس کی امداد کو مقدم سمجھا جائے دینی تعلیم سے اعراض کر کے اور دینی مدارس کو نازک حالت میں چھوڑ کر دنیوی تعلیم میں منہمک ہو جانا اچھا کام نہیں ہے،

اولاً بچوں کو قرآنِ پاک کی صحیح اور باقاعدہ تعلیم دی جائے۔ شرعی احکام اور ضروریاتِ دین سے مناسب طریق سے واقف کیا جائے، اُن کے قلوب میں اسلام کا ایسا نقش جمایا جائے جس سے اسلامی جذبات اور ایمانی احساسات پختہ اور پائیدار ہوں تاکہ اُن کو کوئی قوت سرد نہ کر سکے اور عملی حالت کو کوئی طاقت بدل نہ سکے
(
فتاوی رحیمیہ:
۵
/
۱۱۸
، مکتبۃ الاحسان، دیوبند)۔
حضرت مفتی محمد فرید صاحب رحمه الله رقم طراز ہیں: لڑکیوں کے لیے اسکول اور کالج میں تعلیم حاصل کرنا بذاتِ خود ممنوع نہیں ہے۔ بذاتِ خود ممنوع بے پر دگی، اختلاط اور آزادی جیسے امور ہیں۔ نیز اصولِ شرعیہ کی بنا پر وہ امر بھی ممنوع شمار ہوتا ہے، جو کہ دیگر ممنوعات کا ذریعہ ہو۔ (فتاوی فریدیہ:
۱
/
۲۰٤
، کتاب العلم)۔
مزید تفصیلات کے لیے ہمارا رسالہ "سبیل الخیرات فی جماعات المتنقبات" ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.