وصایا امام ابو حنیفہ رحمه الله میں مجالسِ ذکر میں شرکت نہ کرنے کی وصیت:
Question
الاشباہ و النظائر کی تیسری جلد میں ص ۳۸۰ پر امام ابو حنیفہ رحمه الله کی ایک وصیت مرقوم ہے: "
ولا تحضر مجالس الذكر"
اِس وصیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر کی مجلس میں نہیں جانا چاہیے، حالانکہ ہمارے اکابر رحمه الله مجالس ذکر منعقد کرتے تھے، تو اِس عبارت کا کیا مطلب ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ امام صاحب رحمه الله کا یہ مقولہ بظاہر احادیثِ مبارکہ کے خلاف معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ امام صاحب رحمه الله نے مجالس ذکر میں شرکت سے منع فرمایا، کیوں کہ خود امام صاحب رحمه الله نے امام ابو یوسف رحمه الله کو نصیحت فرمائی کہ لوگوں کے سامنے اللہ کا ذکر کیا کرو۔
قال: وأكثر ذكر الله تعالى فيما بين الناس ليتعلموا ذلك منك. (الأشباه والنظائر: ۳/۳۷٦، إدارة القرآن).
ترمذی شریف کی روایت میں مجالس ذکر میں شرکت کی ترغیب موجود ہے:
عن أنس بن مالك رضي الله عنه، أن رسول الله ﷺ قال: إذا مررتم برياض الجنة فارتعوا وقالوا: وما رياض الجنة؟ قال: حلق الذكر. هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث ثابت عن أنس رضي الله عنه. (سنن الترمذي، رقم الحديث: ۳۵۱، أبواب الدعوات).
علامہ سید حموی رحمه الله امام صاحب رحمه الله کے قول کے بارے میں فرماتے ہیں: بعض نسخوں میں
ولا تحضر
کی جگہ
ولا تحقر
آیا ہے، لیکن یہ توجیہ صحیح نہیں ہے کیوں کہ آگے والا جملہ
ولا تحضر پر
معطوف ہے۔
قال: ولا تحضر مجالس الذكر: كذا في النسخ ومثله في مناقب الكردري رحمه الله وهو مشكل فقد ورد في الحديث: عليكم بحلق الذكر فإنها رياض الجنة، وفي بعض النسخ ولا تحقر بالقاف وهو غير مناسب للمعطوف فتأمل. (غمز عيون البصائر شرح الأشباه والنظائر: ۳/ ۳۸۰، ط: إدارة القرآن).
آگے والا جملہ ملاحظہ کیجیے:
ولا تحضر مجالس الذكر أو من يتخذ مجلس عظة بجاهك وتزكيتك له.
(۲) امام صاحب کے اس جملہ کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس میں دو چیزیں مذکور ہیں: (۱) مجلس ذکر (۲) مجلس وعظ؛ پھر دونوں کے بعد
بجاهك وتزكيتك له
ہے۔ تو یہ قید دونوں کے ساتھ لاحق ہو گی، مطلب یہ ہو گا کہ ہر ایسی مجلس ذکر سے بچو جس میں اللہ تعالی کی رضا مقصود نہ ہو بلکہ آپ کی شرکت کی وجہ سے صاحب مجلس اپنا نام بلند کرنا چاہتا ہو اور آپ کی تعریف کی وجہ سے اپنی شہرت کا طالب ہو۔
يعني: لا تحضر مجالس الذكر الذي ينعقد بجاهك وتزكيتك له ولا تحضر إلى من يتخذ مجلس عظة بجاهك وتزكيتك له.
اور ایسی مجلس وعظ میں بھی مت جاؤ جس میں صاحب مجلس آپ کی شرکت کی وجہ سے اپنا نام بلند کرنا اور اپنی شہرت چاہتا ہو۔
بہت سے جملے ایسے ہیں جن میں دو یا زیادہ چیزیں مذکور ہوتی ہیں پھر آخر میں ایک قید یا علت ہوتی ہے جو ما قبل تمام جملوں کے ساتھ لاحق ہوتی ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
قال الله تعالى: ﴿فإذا جاء أجلهم لا يستأخرون ساعة ولا يستقدمون﴾ [الأعراف: ۳٤]
اکثر مفسرین حضرات نے
"فإذا جاء أجلهم"
کو معطوف اور معطوف علیہ دونوں کے ساتھ لگایا ہے اور پھر یہ اشکال کیا ہے کہ اجل آنے کے بعد تاخیر ممکن ہے لیکن تقدیم کیسے ممکن ہے؟ مثلاً: موت کا وقت موعود دن کے بارہ بجے ہے تو یہ ممکن ہے کہ ایک بجے مر جائے، لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ گیارہ بجے مر جائے۔ اس کے متعدد جوابات میں سے ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ
"إذا قرب أجلهم لا يستأخرون ساعة ولا يستقدمون"
یعنی مفسرین کے نزدیک یہ قید معطوف و معطوف علیہ دونوں کے ساتھ ملحق ہے۔ (تفسیر الرازی:
۷
/
۷۱
۔
۷۲
، ط: دار الفکر)۔
فإن قيل: ما معني قوله: ولا يستقدمون فإن عند حضور الأجل امتنع عقلاً وقوع ذلك الأجل في الوقت المتقدم عليه، قلنا: يحمل قوله: فإذا جاء أجلهم على قرب حضور الأجل، تقول العرب: جاء الشتاء إذا قارب وقته ومع مقاربة الأجل يصح التقدم على ذلك
تارة والتأخر عنه أخري. (التفسير الكبير: ۷/۷۲).
دوسری مثال ملاحظہ کیجیے:
ولو شاء ربك لجعل الناس أمة واحدة. ولا يزالون مختلفين إلا من رحم ربك، ولذلك خلقهم.
جلالین میں اس آیت کے تحت مرقوم ہے:
أي أهل الاختلاف له وأهل الرحمة لها. (ص ۱۸۹، قديمي)
اس آیت میں
"ولذلك خلقهم"
کو دونوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔
يعني "ولايزالون مختلفين"
اور
"إلا من رحم ربك"
کے ساتھ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3160
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3160