قعدہ میں سو جانے سے نماز کا حکم:
Question
ایک شخص صبح کی نماز میں قعدہ میں سو گیا، جب آنکھ کھلی تو فوراً سلام پھیر دیا، اس کے بعد دیکھا کہ امام تو ابھی نماز میں ہے، تو وہ شخص بیٹھا رہا اور امام کے ساتھ دوبارہ سلام پھیر دیا، کیا اس شخص کی نماز صحیح ہوئی یا نہیں؟ یا اعادہ کی ضرورت ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
شخص مذکور کی نماز صحیح ہو گئی، اعادہ کی ضرورت نہیں۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں منقول ہے:
لو أتم المؤتم التشهد بأن أسرع فيه وفرغ منه قبل إتمام إمامه فأتى بما يخرجه من الصلاة كسلام أو كلام أو قيام جاز أي صحت صلاته لحصوله بعد تمام الأركان لأن الإمام وإن لم أتم التشهد لكنه قعد قدره لأن المفروض من القعدة قدر أسرع ما يكون من قراءة التشهد وقد حصل وإنما كره للمؤتم ذلك لتركه متابعة الإمام بلا عذر فلو به كخوف حدث أو خروج وقت جمعة أو مرور مار بين يديه فلا كراهة. (فتاوى الشامي: ۱/۵۲۵، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے:
اگر سہواً امام سے پہلے سلام پھیر دیا پھر یاد آ گیا تو ٹھہرا رہے اور امام کی اتباع میں دوبارہ سلام پھیر دے بشرطیکہ کوئی اور قول یا فعل منافی صلاۃ نہ کیا ہو، ورنہ اس کے ذمہ نماز کا اعادہ لازم ہوگا، اگر عمداً امام سے پہلے سلام پھیر کر نماز سے خارج ہو گیا تو دوبارہ پڑھے۔ (فتاوی محمودیہ: ٦/٦٤۲، جامعہ فاروقیہ)۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں مرقوم ہے:
سوال: اگر مقتدی نماز ختم ہونے سے پہلے سلام پھیر دے اور فوراً یاد آنے پر بغیر کلام کیے نماز امام کے ساتھ پوری کرے تو نماز ہو جاوے گی یا نہیں؟
جواب:
إلا السلام ساهياً للتحليل أي للخروج من الصلاة قبل إتمامها على ظن إكمالها فلا يفسد. (الدر المختار: ۱/٦۱۵، سعيد).
نماز ہو جائے گی۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند، کبیر: ٤/۱٤۵، مدلل و مکمل، دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3430
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3430