عورت کے بالوں کی دو چوٹیاں بنانے کی دلیل:

6 min readFatwa Vol 2 #490Urdu

Question

بعض غیر مقلد اعتراض کرتے ہیں کہ میت عورت کے بالوں کی دو چوٹیاں بنائی جائے گی اس مسئلہ کی دلیل احناف کے پاس موجود نہیں پھر بھی اپنے غلط مذہب پر جمے ہوے ہیں درس ترمذی کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ اس "مسئلہ میں حنفیہ کی کوئی مضبوط دلیل تلاش کے باوجود نہ مل سکی" ۔ کیا واقعی اس کی دلیل موجود نہیں ہے ۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟

Answer

غیر مقلدین کا یہ اعتراض صحیح نہیں ہے، صحیح بخاری شریف میں تین قرون اور دو قرون کا ذکر ہے، اور دو قرون بیہقی، طبرانی کی روایات میں بھی ہے، اور احناف کا طریقہ روایات کے مابین تطبیق دینے کا ہے، لہذا دو قرون کو مان کر تیسرے قرن میں یہ تطبیق دی کہ ایک حیثیت سے قرن ہے کہ اوپر کی طرف اٹھا ہوا ہے اور ایک حیثیت سے بالوں کا گچھا ہے، لہذا تین قرون کہنا بھی صحیح ہے اور دو قرون بھی صحیح ہے ۔ جیسے نبی پاک ﷺ کے منبر کے بارے میں دو قسم کی روایات ملتی ہیں بعض میں تین زینوں کا ذکر ہے اور بعض میں صرف دو کا ۔ اس میں بھی یہ تطبیق دی گئی ہے کہ اصل تین زینے تھے جس نے اوپر کی چھت شمار نہیں کی اس نے دو زینے بیان کیے ۔ بخاری شریف کی روایت ملاحظہ ہو :

عن أم عطية قالت: ضفرنا شعر بنت النبي ﷺ تعني ثلاثة قرون. وقال وكيع عن سفيان: ناصيتها وقرنيها. (بخاري شريف: ۱/۱٦۸، باب هل يجعل شعر المرأة ثلاثة قرون).
عمدة القاري
میں ہے:

قال وكيع بن جراح عن سفيان الثوري بهذا الإسناد: ناصيتها وقرنيها، أي: جانبي رأسها، وهذا التعليق وصله الإسماعيلي عن محمد بن علويه: حدثنا عمرو بن عبد الله حدثنا وكيع عن سفيان، ورواه أيضاً عن حارث المحاربي عن سفيان، ومن حديث عبد الله بن صالح حدثنا هارون بن عبد الله حدثنا قبيصة حدثنا سفيان عن هشام، ورواه الفريابي عن سفيان. (عمدة القاري: ٦/٦٥، ملتان).

بیہقی کی روایت ملاحظہ ہو :

عن ليث بن أبي سليم عن عبد الملك بن أبي بشير عن حفصة بنت سيرين عن أم سليم أم أنس بن مالك رضي الله عنه قالت: قال رسول الله ﷺ: إذا توفيت المرأة فأرادوا أن يغسلوها فليبدأ ببطنها فليمسح بطنها مسحاً رفيقاً إن لم تكن حبلي

ثم طيبيها
وكفنيها واضفري شعرها ثلاثة قرون قصة وقرنين ولا تشبهيها بالرجال

الخ. (رواه البيهقي في الكبرى: ٤/٥، باب في غسل المرأة).

طبرانی میں ہے:

عن جنيد بن أبي وهرة التيمي عن عبد الملك بن أبي بشر عن حفصة بنت سيرين عن أم سليم قالت: قال رسول الله ﷺ: إذا توفيت المرأة فأرادوا أن يغسلوها

ثم طيبيها وكفنيها واضفري شعرها ثلاثة قرون قصة وقرنين ولا تشبهيها بالرجال

الخ. (رواه الطبراني في الكبير، رقم: ۲۰۸۱۲).
قال الهيثمي في المجمع (۳/۲۲، دار الفكر): رواه الطبراني في الكبير بإسنادين في أحدهما ليث بن أبي سليم وهو مدلس ولكنه ثقة وفي الآخر جنيد وقد وثق وفيه بعض كلام.

حدیث شریف میں قصہ کا لفظ ہے اس کی وضاحت ملاحظہ ہو :

القصة من الفرس شعر الناصية وقيل: ما أقبل من الناصية على الوجه القصة بالضم شعر الناصية

ومنه حديث معاوية رضي الله عنه تناول قصة من شعر كانت في يد حرسي والقصة تتخذها المرأة في مقدم رأسها تقص ناحيتيها عدا جبينها. (لسان العرب: ۷/۷۳، بيروت).

یعنی بالوں کا ایک گچھا جو پیشانی پر ہوتا ہے ۔
قرن کے دو معنی ہیں: (۱)
القرن الذي يكون طويلاً إلى الأسفل
۔ اس سے مراد عورت کے گیسو ہیں ۔
(۲) القرن: سینگ کے معنی میں بھی آتا ہے، یعنی جو سینگ کی شکل میں اوپر کی طرف ہو ۔
تطبیق یہ ہو گی کہ دو قرن لمبے ہوں گے اور ایک قرن اوپر کی طرف گچھے کی شکل میں ہوگا، بخاری شریف کی روایت میں ثلاثۃ قرون سے یہ مر الیا جا سکتا ہے ۔ اور اس کی تائید بخاری شریف کی دوسری روایت "
ناصيتها وقرنيها"
سے بھی ہوتی ہے ۔ اس کی مثال منبر نبوی کے زینے ہیں ۔ ملاحظہ ہو ابو داود شریف میں دو زینوں کا ذکر ہے:

"فاتخذ له منبراً مرقاتين". (رواه أبو داود، رقم: ۱۰۸۳).

دوسری روایت میں تین کا ذکر ہے ۔ ملاحظہ ہو بیہقی میں ہے:

فاتخذ له مرقاتين أو ثلاثة". (رواه البيهقي في الكبرى، رقم: ٥۹۰۹، والدارمي، رقم: ۱٦۰٦).

اگر اوپر والی چھت شمار کریں تو تین زینے ہوں گے اور اگر چھت شمار نہ کریں تو دو ہوں گے ۔

قال العلامة العيني رحمه الله: فإن قيل: ما التوفيق بين الحديثين؟ فإن في حديث مسلم كما ذكرنا ثلاثة درجات، وفي هذا الحديث مرقاتان وهما درجتان؟ قلنا: الذي قال: "مرقاتين" كأنه لم يعتبر الدرجة التي يجلس على ها، والذي روي ثلاثاً اعتبرها. (شرح أبي داود للعلامة العيني: ٤/٤۲۰، ط: الرياض، وعمدة القاري، باب الصلاة في السطوح والمنبر).

بعض فقہاء حضرت عائشہ رضي الله عنه کی روایت سے استدلال کرتے ہیں وہ سمجھ میں نہیں آتا ۔ روایت ملاحظہ ہو :

عبد الرزاق عن الثوري عن حماد عن إبراهيم أن عائشة رضي الله عنه رأت امرأة يكدون رأسها فقالت: علام تنصون ميتكم. (مصنف عبد الرزاق: ۳/٤۳۷).

کیونکہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کنگھی کی نفی ہے ثلاثۃ قرون کی نفی نہیں ہے، اس لیے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ کنگھی کے ساتھ تین چوٹیاں ہوں، کنگھی کے ساتھ دو چوٹیاں بھی ہو سکتی ہیں، بلکہ اس حدیث میں دو یا تین قرون کا ذکر ہی نہیں ہے، اور کنگھی نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دو چوٹیاں ہوں بلکہ کنگھی نہ کرنے کی صورت میں بھی تین چوٹیاں ہو سکتی ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.